اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ترکی کےوزیرخارجہ نےمیونیخ سیکورٹی کانفرنس ميں صہیونی حکومت کی شرکت کی مخالفت کرتے ہوئے کانفرنس کا بائیکاٹ کردیا ہے -
خبروں کے مطابق ترک وزیرخارجہ مولود چاوش اوغلو نے برلین میں ترکی کے سفارت خانے میں یورپی ملکوں میں تعینات ترکی کے قونصلروں کے اجلاس میں شرکت کے بعد کہا کہ میونیخ سیکورٹی کانفرنس میں صہیونی حکومت کے نمائندوں کی شرکت کےسبب وہ اس اجلاس میں اپنی شرکت اور تقریر کا پروگرام منسوخ کر رہے ہیں - ترکی کے وزیر خارجہ نے یہ بھی کہا کہ میونیخ سیکورٹی کانفرنس کا بائیکاٹ کرنے کے فیصلے کا تعلق ترکی اور جرمنی کے تعلقات سے نہیں ہے- ترکی اورصہیونی حکومت کے درمیان سیاسی تعلقات دوہزار دس ميں اس وقت کشیدہ ہوگئےتھے جب غزہ کے محصور فلسطینیوں کے لئے انسان دوستانہ امداد لے جانے والے بحری جہاز پراسرائیلی فوجی کمانڈوز نے حملہ کردیا تھا- اس حملے میں نو ترک شہری مارے گئے تھے – اسرائیلی فوج کے اس حملے کے باوجود ترکی اورصہیونی حکومت کے تعلقات بدستور قائم رہے اور دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی لین دین کی شرح تقریبا پانچ ارب ڈالر پہنچ گئی ہے- ترک وزیرخارجہ نے اسرائیلی مندوب کی شرکت کا بہانہ بناکر میونیخ سیکورٹی کانفرنس کا بائیکاٹ ایک ایسے وقت کیا ہے جب شام میں دہشت گرد گروہوں کی حمایت میں ترکی اور اسرائیل کاموقف ایک ہے اور دونوں ہی شام میں داعش اور دیگر دہشت گردوں کی ہر طرح کی حمایت کرتے ہیں – واضح رہے ترکی کے راستے جو دہشت گرد شام جاتے ہيں ان کا علاج ترکی کے ساتھ ساتھ اسرائیل کےاسپتالوں میں کیا جاتا ہے - میونیخ سیکورٹی کانفرنس جمعے کوشروع ہوگئی ہے جس میں یوکرین اورمشرق وسطی کے بحران پر خاص طور سے بحث ہوگي- اس تین روزہ کانفرنس میں دنیا کے اسّی سے زائد ملکوں کے سربراہان مملکت اور اعلی حکام شریک ہیں – جو رہنما اس کانفرنس کو خطاب کریں گے ان میں جرمن چانسلر انجلا مرکل اور عراق کے وزیراعظم حیدرالعباد بھی شامل ہيں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲